بنگلورو،30؍نومبر(ایس او نیوز) 10 دسمبر سے ریاستی لیجسلیچر اجلاس کی شروعات سے قبل ہی کابینہ میں توسیع کرنے وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی اور کانگریس قیادت کے اتفاق کے ساتھ ہی وزارت کے دعویداروں کی طرف سے ممکنہ توسیع میں اپنے لئے جگہ محفوظ رکھنے کا دباؤ بنانا شروع کردیاگیا ہے۔
کے پی سی سی صدر دنیش گنڈو راؤ اور سابق وزیراعلیٰ سدرامیا کی طرف سے اس تصدیق کے بعد کہ بلگاوی میں شروع ہونے والے سرمائی اجلاس سے پہلے ہی کابینہ میں توسیع کا عمل پورا کرلیا جائے گا۔ کانگریس کے بیشتر وزارتی دعویداروں نے پارٹی کے ریاستی ومرکزی قیادت سے اپنا ربط بڑھاکر یہ کوشش تیز کردی ہے کہ وزارت میں کسی بھی طرح ان کا نام شامل کیا جائے۔ حالانکہ یہ بھی کہا جارہاہے کہ وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے صدر کانگریس راہل گاندھی سے رابطہ کرکے کہا ہے کہ فی الوقت کابینہ میں توسیع کو موخر کرناحکومت کے لئے بہتر ہوسکتاہے۔ لیکن برگشتہ اراکین کی اس وارننگ کے بعد کہ لیجسلیچر اجلاس سے پہلے اگر توسیع نہیں کی گئی تو تقریباً 30اراکین بلگاوی لیجسلیچر اجلاس سے غیر حاضر رہیں گے پارٹی اعلیٰ کمان اور وزیر اعلیٰ یہ خدشہ اس بات کے لئے مجبور کرچکا ہے کہ کابینہ میں توسیع کے عمل کو انجام دیا جائے۔
دنیش گنڈو راؤ کا بیان: کے پی سی سی صدر دنیش گنڈو راؤ نے عنقریب کابینہ میں توسیع کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خبریں غلط ہیں کہ کابینہ میں توسیع کے لئے دباؤ بنانے کے مقصد سے بعض کانگریس اراکین اسمبلی آج ممبئی روانہ ہوگئے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ کسی بھی رکن اسمبلی کو کہیں بھی جانے کی پوری آزادی ہے ، اسی کو بنیاد بناکر یہ قیاس آرائیاں کرنا غلط ہیں کہ یہ اراکین اسمبلی حکومت کے خلاف بغاوت کے لئے شہر چھوڑ رہے ہیں۔ پارٹی قیادت اور وزیر اعلیٰ نے پہلے ہی واضح کردیا ہے کہ 10 دسمبر سے پہلے کابینہ میں توسیع کی جائے گی، اس کے بعد بھی قیاس آرائیاں درست نہیں ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اراکین اسمبلی میں وزارت کی خواہش کرنا فطری بات ہے۔ اگر ان لوگوں نے وزارت کے لئے جدوجہد کی تو اس میں حرج ہی کیا ہے، سبھی اراکین اسمبلی کو وزیر بنانا کسی کے بس کی بات نہیں۔ اسی لئے متعدد اراکین اسمبلی کو سرکاری بورڈز اور کارپوریشنوں کی چیرمین شپ دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کسی بھی رکن اسمبلی نے پارٹی چھوڑنے یا حکومت گرانے کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا ہے۔ پارٹی کے اراکین اسمبلی دہلی جائیں ، ممبئی جائیں یا سنگاپور بلکہ دس اراکین کی بجائے اگر پچاس بھی جائیں تو اسے سیاسی رنگ میں رنگنے کی ضرورت نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ کابینہ میں توسیع اور دیگر امور پر تبادلۂ خیال کے لئے 8 دسمبر کو کانگریس لیجسلیچر پارٹی میٹنگ طلب کی گئی ہے جس میں وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ میٹنگ میں اراکین اسمبلی کو درپیش شکایات خود وزیر اعلیٰ سنیں گے، ان کی یکسوئی کے لئے بروقت احکامات بھی صادر کریں گے۔ سابق وزیراعلیٰ اور ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا ، وزیر آبی وسائل ڈی کے شیوکمار کی ملاقات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں دنیش گنڈو راؤ نے کہاکہ اس ملاقات کو سیاسی رنگ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔آبپاشی منصوبوں پر تبادلۂ خیال کے لئے وزیر موصوف نے سابق وزیراعلیٰ کو مدعو کیا تھا اور دونوں کے درمیان انتہائی خوشگوار ماحول میں بات چیت ہوئی ہے۔ بی جے پی کی طرف سے آپریشن کمل کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس سے پہلے بھی کئی کوششیں ہوچکی ہیں ، اس کوشش کا حشر بھی وہی ہوگا۔